فهرس الكتاب

الصفحة 1274 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

نرکومادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان​

1274 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَهُ فِي الْكَرَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قبیلہ ٔ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرمﷺسے نرکومادہ پرچھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں پوچھاتوآپ نے اسے منع کردیا ، پھر اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پرنر چھوڑتے ہیں توہمیں بخشش دی جاتی ہے (تواس کا حکم کیا ہے؟۔) آپ نے اسے بخشش لینے کی اجازت دے دی۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن حمیدہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت