فهرس الكتاب

الصفحة 1288 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان​

1288 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ قَالَ لَا تَرْمِ وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ

رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھرمارتاتھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرمﷺکے پاس لے گئے آپ نے پوچھا:'رافع !تم ان کے کھجورکے درختوں پر پتھرکیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: 'پتھرمت مارو، جو خود بخود گرجائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

نوٹ: ( سند میں 'صالح' اوران کے باپ 'ابوجبیر'دونوں مجہول ہیں، اور ابوداود وابن ماجہ کی سند میں 'ابن ابی الحکم ' مجہول ہیں نیز ان کی دادی مبہم ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت