فهرس الكتاب

الصفحة 1376 من 3890

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں

وقف کا بیان​

1376 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب انسان مرجاتاہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ۱؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ۲؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک وصالح اولاد ہے ۳؎ جو اس کے لیے دعاکرے '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: صدقہ جاریہ یعنی ایساصدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کردیاجائے، مثلًا سرائے کی تعمیر،کنواں کھدوانا،نل لگوانا، مساجدومدارس اوریتیم خانوں کی تعمیرکروانا،اسپتال کی تعمیر، پُل اورسڑک وغیرہ بنوانا، ان میں سے جو کام بھی وہ اپنی زندگی میں کرجائے یااس کے کرنے کا ارادہ رکھتاہووہ سب صدقہ جاریہ میں شمارہوں گے۔

۲؎: علم میں لوگوں کو تعلیم دینا، طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا، تصنیف وتالیف اور درس وتدریس دعوت وتبلیغ کا سلسلہ قائم کرنا،مدارس کی تعمیرکرنا، دینی کتب کی طباعت اور ان کی نشرواشاعت کا بندوبست کر نا وغیرہ امورسبھی داخل ہیں۔

۳؎: نیک اولاد میں بیٹا،بیٹی پوتا، پوتی ، نواسانواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہے جنہیں علم دین سکھایاہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت