فهرس الكتاب

الصفحة 1389 من 3890

کتاب: دیت وقصاص کے احکام ومسائل

دیت میں کتنے درہم دیے جائیں؟​

1389 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَانِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ. وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الدِّيَةَ عَشْرَةَ آلاَفٍ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ. و قَالَ الشَّافِعِيُّ: لاَ أَعْرِفُ الدِّيَةَ إِلاَّمِنْ الإِبِلِ وَهِيَ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا.

ہم سے سعید بن عبد الرحمن المخزومی نے بیا ن کیا ، وہ کہتے ہیں: ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینا رکے واسطے سے بیان کیا ، عمروبن دینار نے عکرمہ سے اورعکرمہ نے نبی اکرمﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس روایت میں ابن عباس کاذکرنہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت میں محمدبن مسلم طائفی کی روایت کی بنسبت کچھ زیادہ باتیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں' ابن عباس' کے واسطہ کاذکر نہیں کیا ہے، ۲- بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے، احمداوراسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،۳- اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار (درہم) ہے ، سفیان ثوری اوراہل کوفہ کا یہی قول ہے،۴- امام شافعی کہتے ہیں: ہم اصلِ دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سواونٹ یا اس کی قیمت ہے۔

نوٹ: (یہ مرسل روایت ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت