فهرس الكتاب
1426 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'مسلمان مسلمان کابھائی ہے ۱؎ ، نہ اس پرظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مددچھوڑتاہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگاہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگاہوتاہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دورکرتاہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دورکرے گا، اورجو کسی مسلمان کے عیب پرپردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
۱؎: اللہ تعالیٰ کے فرمان: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} (الحجرات:10) کا بھی یہی مفہوم ہے۔