فهرس الكتاب

الصفحة 1432 من 3890

کتاب: حدود وتعزیرات سے متعلق احکام ومسائل

رجم کے ثبوت کا بیان​

1432 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَإِنِّي خَائِفٌ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ فَيَقُولَ قَائِلٌ لَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَبَلٌ أَوْ اعْتِرَافٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ،اور آپ پر کتاب نازل کی،آپ پرجوکچھ نازل کیاگیا اس میں آیت رجم بھی تھی ۱؎ ، چنانچہ رسول اللہ ﷺنے رجم کیا اور آپ کے بعدہم نے بھی رجم کیا ، (لیکن) مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ درازہوجائے گا توکہنے والے کہیں گے: اللہ کی کتاب میں ہم رجم کا حکم نہیں پاتے ،ایسے لوگ اللہ کا نازل کردہ ایک فریضہ چھوڑنے کی وجہ سے گمراہ ہوجائیں گے ،خبردار! جب زانی شادی شدہ ہو اورگواہ موجود ہوں، یا جس عورت کے ساتھ زناکیا گیا ہووہ حاملہ ہوجائے، یا زانی خود اعتراف کرلے تو رجم کرنا واجب ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور کئی سندوں سے یہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ سے آئی ہے،۳- اس باب میں علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

۱؎: آیت رجم کی تلاوت منسوخ ہے لیکن اس کا حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت