فهرس الكتاب
1511 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنْ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سے کہا: کیارسول اللہ ﷺ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں:نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے ، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جولوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایاجائے،ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعدکھاتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ام المومنین (جن سے حدیث مذکورمروی ہے) وہ نبی اکرمﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
۱؎: مقصود یہ ہے کہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرکے رکھتے اور قربانی کے بعد اسے کئی دنوں تک کھاتے۔