فهرس الكتاب

الصفحة 1568 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان​

1568 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنْ الْأُسَارَى وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ وَيَفْدِي مَنْ شَاءَ وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ و قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً نَسَخَتْهَا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ إِذَا أُسِرَ الْأَسِيرُ يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا قَالَ إِسْحَقُ الْإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَيَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرمﷺنے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دومسلمان مردوں کو چھڑوایا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے ،۳- اکثراہل علم صحابہ اوردوسرے لوگوں کا اسی پرعمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اورجسے چاہے قتل کرے، اورجن سے چاہے فدیہ لے ،۴- بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیارکیا ہے،۵- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبرپہنچی ہے کہ یہ آیت {فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً} منسوخ ہے اور آیت: {وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ} اس کے لیے ناسخ ہے،۴- اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمدبن حنبل سے سوال کیا: آپ کے نزدیک کیا بہترہے جب قیدی گرفتارہوتواسے قتل کیاجائے یا اس سے فدیہ لیاجائے ، انہوں نے جواب دیا، اگروہ فدیہ لے سکیں توکوئی حرج نہیں ہے اوراگرانہیں قتل کردیاجائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا،۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہترہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔

۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت