فهرس الكتاب

الصفحة 1570 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

عورتوں اوربچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان​

1570 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ خَيْلَنَا أُوطِئَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادِهِمْ قَالَ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اوربچوں کو روندڈالاہے ، آپ نے فرمایا:' وہ بھی اپنے آباواجداد کی قسم سے ہیں ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: یعنی اس حالت میں یہ سب اپنے بڑوں کے حکم میں تھے اور یہ مراد نہیں ہے کہ قصدًا ان کا قتل کرنا مباح تھا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو پامال کئے بغیر ان کے بڑوں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ بڑوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ سب مقتول ہوئے ، ایسی صورت میں ان کا قتل جائز ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت