فهرس الكتاب
1573 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ الْكَنْزِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ الْكَنْزُ وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ الْكِبْرُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:' جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اورقرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ' ۱؎ ۔
سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں 'الکنز'بیان کیا ہے اور ابوعوانہ نے اپنی روایت میں 'الکبر' بیان کیا ہے ، اوراس میں ' عن معدان' کا ذکرنہیں کیا ہے ، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔
۱؎:کنز: وہ خزانہ ہے جو زمین میں د فن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ غلول: مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
نوٹ: (الکنزکا لفظ شاذہے، دیکھئے: الصحیحۃ رقم ۲۷۸۵)