فهرس الكتاب

الصفحة 1700 من 3890

کتاب: جہاد کے احکام ومسائل

گھڑدوڑ میں شرط لگانے کا بیان​

1700 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ فرمایا:' مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

۱؎: بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے، معلوم ہواکہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی ودفاعی ٹرینگ ہو، کبوتر بازی، غلیل بازی، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں، موجودہ دور کے کھیل بھی بے کار ہی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت