فهرس الكتاب

الصفحة 171 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

اوّل وقت میں صلاۃ پڑھنے کی فضیلت کا بیان​

171 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا:' علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: صلاۃ کو جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ کوجب آجائے، اور بیوہ عورت (کے نکاح کو) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر) مل جائے'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

نوٹ: (سند میں سعید بن عبد اللہ جہنی لین الحدیث ہیں، اور ان کی عمربن علی سے ملاقات نہیں ہے، جیساکہ مؤلف نے خود کتاب ا لجنائز میں تصریح کی ہے ، مگر حدیث کا معنی صحیح ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت