فهرس الكتاب

الصفحة 1710 من 3890

کتاب: جہاد کے احکام ومسائل

جانوروں کوباہم لڑانے ، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان​

1710 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چہرے پرمارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت