فهرس الكتاب

الصفحة 1810 من 3890

کتاب: کھانے کے احکام ومسائل

پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان​

1810 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ

ام ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم ﷺ (ہجرت کے بعد) ان کے گھرٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیارکیا جس میں کچھ ان سبزیوں (گندنا وغیرہ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسندکیا اورصحابہ سے فرمایا:' تم لوگ اسے کھاؤ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں ڈرتاہوں کہ میں اپنے رفیق (جبریل) کو تکلیف پہچاؤں'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت