1850 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈرہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتاہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳-روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کدودیکھا توآپ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: 'یہ کدوہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں'۔