فهرس الكتاب

الصفحة 1902 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

ماں باپ کی نافرمانی اور ان سے قطع تعلق بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے​

1902 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَشْتُمُ أَبَاهُ وَيَشْتُمُ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے '، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کوبھی گالی دے گا ؟ آپ نے فرمایا:' ہاں،وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا ،تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا ، اوروہ کسی کی ماں کو گالی دے گا ،تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت