192 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْأَحْوَلِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو مَحْذُورَةَ اسْمُهُ سَمُرَةُ بْنُ مِعْيَرٍ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا فِي الْأَذَانِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُ كَانَ يُفْرِدُ الْإِقَامَةَ
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں اذان کے انیس کلمات ۱؎ اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں،۳- ابومحذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے۔
۱؎: یہ انیس کلمات ترجیع کے ساتھ ہوتے ہیں، یہ حدیث اذان میں ترجیع کے مسنون ہو نے پر نص صریح ہے ۔