فهرس الكتاب

الصفحة 1952 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

لڑکے کو ادب سکھانے کابیان​

1952 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ وَهُوَ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ

عمروبن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' حسن ادب سے بہترکسی با پ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عامربن ابوعامر خزازکی روایت سے جانتے ہیں، اورعامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں، ۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمروبن سعید بن عاص ہیں، ۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎ ۔

۱؎: اگر 'جدہ' کی ضمیر کا مرجع 'ایوب' ہیں تو ان کے دادا 'عمرو بن سعید الأشرق' صحابی نہیں ہیں، اور اگر 'جدہ' کی ضمیر کا مرجع 'موسیٰ' ہیں تو ان کے دادا ' سعید بن العاص' بہت چھوٹے صحابی ہیں، ان کا سماع نبی کریم ﷺ سے نہیں ہے، تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔

نوٹ: (سندمیں 'عامر بن صالح' حافظہ کے کمزور ہیں، اور 'موسی بن عمرو' مجہول الحال )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت