1986 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَاهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ وَيُقَالُ ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' تین آدمی مشک کے ٹیلے پرہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اوراپنے مالکوں کا حق اداکرے ، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اوروہ اس سے راضی ہوں، اورتیسرا وہ آدمی جو رات اوردن میں صلاۃکے لیے پانچ باربلاتاہے ' ۱ ؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ۲-ابوالیقظان کانام عثمان بن قیس ہے ، انہیں عثمان بن عمیربھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہورہے ۔
۱ ؎: یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ: (سندمیں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے ، اور تشیع میں بھی غالی ہے )