فهرس الكتاب

الصفحة 201 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

بغیر وضوکے اذان دینے کی کراہت کا بیان​

201 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ وَهْبٍ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَكَرِهَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے کہا: صلاۃ کے لیے وہی اذان دے جو باوضو ہو۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا، یہ ۱؎ ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- زہری نے ابوہریرہ سے نہیں سناہے، ۴- بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے،بعض نے اسے مکروہ کہاہے اوریہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کاقول ہے، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے، اوراسی کے قائل سفیان ثوری ، ابن مبارک اور احمد ہیں۔

۱؎: یعنی عبداللہ بن وہب کی موقوف روایت جسے انہوں نے بطریق ' يو نس عن الزهري، عن أبي هريرة موقوفًا ' روایت کی ہے، پہلی روایت ( جو مرفوع ہے) کے مقابلہ میں ارجح ہے اور اس کا ضعف کم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت