2016 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَال سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ وَيُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھاتوانہوں نے کہا: آپﷺ فحش گو، بدکلامی کرنے والے اوربازارمیں چیخنے والے نہیں تھے ، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے ، بلکہ عفوودرگزرفرمادیتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبدہے، اور عبدالرحمن بن عبدبھی بیان کیا گیا ہے ۔