فهرس الكتاب

الصفحة 2035 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

آدمی کے پاس جو چیزنہ ہو اس پر اترانے کابیان​

2035 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا فَلَمْ يَعْرِفْهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَازِمٍ الْبَلْخِيُّ قَال سَمِعْتُ الْمَكِّيَّ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَكِّيِّ فَجَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ أَعْطِهِ دِينَارًا فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا دِينَارٌ إِنْ أَعْطَيْتُهُ لَجُعْتَ وَعِيَالُكَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ أَعْطِهِ قَالَ الْمَكِّيُّ فَنَحْنُ عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِكِتَابٍ وَصُرَّةٍ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْهِ بَعْضُ إِخْوَانِهِ وَفِي الْكِتَابِ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُ خَمْسِينَ دِينَارًا قَالَ فَحَلَّ ابْنُ جُرَيْجٍ الصُّرَّةَ فَعَدَّهَا فَإِذَا هِيَ أَحَدٌ وَخَمْسُونَ دِينَارًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ قَدْ أَعْطَيْتَ وَاحِدًا فَرَدَّهُ اللَّهُ عَلَيْكَ وَزَادَكَ خَمْسِينَ دِينَارًا

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' جس شحص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کر نے والے سے 'جزاک اللہ خیرًا' (اللہ تعالیٰ تم کو بہتربدلادے) کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کردی ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے، ہم اسے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے ، میں نے محمدبن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لا علمی کا اظہا رکیا، ۳- مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے، ایک مانگنے والاآیا اوران سے کچھ مانگا، ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا: اسے ایک دیناردے دو، خازن نے کہا: میرے پاس صرف ایک دینارہے اگرمیں اسے دے دوں تو آپ اورآپ کے اہل وعیال بھوکے رہ جائیں گے ، یہ سن کرابن جریج غصہ ہوگئے اورفرمایا: اسے دیناردے دو، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اورتھیلی لے کر آیاجسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا ، خط میں لکھاتھا: میں نے پچاس دیناربھیجے ہیں ، ابن جریج نے تھیلی کھولی اورشمارکیا تو اس میں اکاون دینارتھے، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا:تم نے ایک دیناردیاتواللہ تعالیٰ نے تم کواسے مزیدپچاس دینارکے ساتھ لوٹا دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت