فهرس الكتاب

الصفحة 216 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

باجماعت صلاۃ کی فضیلت کا بیان​

216 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'آدمی کی با جماعت صلاۃ اس کی تنہا صلاۃ سے پچیس گنا بڑھ کر ہے' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: پچیس اورستائیس کے مابین کوئی منافات نہیں ہے، پچیس کی گنتی ستائیس میں داخل ہے،یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے پچیس گناثواب کا ذکر کیاہوبعدمیں ستائیس گنا کا، اوربعض نے کہا ہے کہ یہ فرق مسجدکے نزدیک اور دور ہونے کے اعتبار سے ہے اگرمسجددورہوگی تواجرزیادہ ہوگااورنزدیک ہوگی توکم، اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کمی وزیادتی خشوع وخضوع میں کمی وزیادتی کے اعتبارسے ہوگی، نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرق جماعت کی تعدادکی کمی وزیادتی کے اعتبارسے ہوگا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت