فهرس الكتاب

الصفحة 218 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

جو اذان سنے اور صلاۃ میں حاضر نہ ہواس کی شناعت کا بیان​

218 قَالَ مُجَاهِدٌ وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَشْهَدُ جُمْعَةً وَلَا جَمَاعَةً قَالَ هُوَ فِي النَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَمَعْنَى الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ وَالْجُمُعَةَ رَغْبَةً عَنْهَا وَاسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا وَتَهَاوُنًا بِهَا

مجاہد کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو صوم رکھتاہو او ر رات کو قیام کرتاہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو؛ تو انہوں نے کہا: وہ جہنم میں ہوگا ۔

مجاہد کہتے ہیں: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بے رغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضرنہ ہوتا ہو۔

نوٹ: (سندمیں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت