فهرس الكتاب

الصفحة 2321 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کابیان​

2321 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ وَقَفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّخْلَةِ الْمَيِّتَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَالدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُسْتَوْرِدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ

مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس کھڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'کیاتم لوگ اسے دیکھ رہے ہو کہ جب یہ اس کے مالکوں کے نزدیک حقیراوربے قیمت ہوگیا' تو انہوں نے اسے پھینک دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! اس کی بے قیمت ہونے کی بنیادہی پر لوگوں نے اسے پھینک دیا ہے ، آپ نے فرمایا:' دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیراوربے وقعت ہے جتنا یہ اپنے لوگوں کے نزدیک حقیراوربے وقعت ہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- مستورد رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت