فهرس الكتاب

الصفحة 237 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

جب تم میں سے کوئی امامت کرے توصلاۃ ہلکی پڑھائے​

237 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاسْمُ أَبِي عَوَانَةَ وَضَّاحٌ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ قُتَيْبَةَ قُلْتُ أَبُو عَوَانَةَ مَا اسْمُهُ قَالَ وَضَّاحٌ قُلْتُ ابْنُ مَنْ قَالَ لَا أَدْرِي كَانَ عَبْدًا لِامْرَأَةٍ بِالْبَصْرَةِ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اورسب زیادہ مکمل صلاۃ پڑھنے والے تھے ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: 'سب سے ہلکی صلاۃہوتی تھی' سے مرادیہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے، اور سب سے زیادہ مکمل صلاۃ کامطلب یہ ہے کہ آپ صلاۃ کے جملہ ارکان وسنن اورمستحبات کوبحسن وخوبی اطمینان سے اداکرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت