فهرس الكتاب

الصفحة 240 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

اللہ اکبرکہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان​

240 قَالَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ قَال سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ خَطَأٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تواپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عبدالرحمن (دارمی) کاکہناہے کہـ یہ یحیی بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اور یحیی بن یمان کی حدیث غلط ہے ۱؎ ۔

۱؎: ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد (ابوحاتم رازی) کہتے ہیں کہ یحیی کواس میں وہم ہواہے، وہ 'إذا قام إلى الصلاة رفع إليه مدًا'کہناچاہ رہے تھے لیکن ان سے چوک ہوگئی انہوں نے غلطی سے 'إذا كبّر للصلاة نشر أصابعه'کی روایت کردی، ابن ابی ذئب کے تلامذہ میں سے ثقات نے 'إذا قام إلى الصلاة مدًّا 'ہی کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت