فهرس الكتاب

الصفحة 2403 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

قیامت کی دن نیکوکا اور گناہ گار کا شرمندہ ہونا

2403 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَال سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ قَالُوا وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ مَدَنِيٌّ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جو بھی مرتاہے وہ نادم وشرمندہ ہوتاہے'، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول!شرم وندامت کی کیاوجہ ہے؟' آپ نے فرمایا:' اگر وہ شخص نیک ہے تواسے اس بات پرندامت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکی نہ کرسکا، اور اگر وہ بد ہے تو نادم ہوتاہے کہ میں نے بدی سے اپنے آپ کو نکالاکیوں نہیں'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- یحییٰ بن عبیدا للہ کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے، اور یہ یحییٰ بن عبید اللہ بن موہب مدنی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت