فهرس الكتاب

الصفحة 2405 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

دین کے ذریعے دنیا طلب کرنے والوں اور ان کی سزا کے بارے میں حدیث کا بیان

2405 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ فَبِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا فَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:' اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے جن کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلواکے پھل سے بھی زیادہ کڑوے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتاہوں! کہ ضرورمیں ان کے درمیان ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقل مندآدمی بھی حیران رہ جائے گا، پھربھی یہ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا جرأت کرتے ہیں؟'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت