فهرس الكتاب

الصفحة 2438 من 3890

کتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

ستر ہزار مسلمان بلاحساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے​

2438 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ سِوَايَ فَلَمَّا قَامَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ،ان میں سے ایک آدمی نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:'میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہء بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے'، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا:' ہاں، میرے علاوہ ہوگا'، پھرجب وہ (راوی حدیث) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی اللہ عنہ ہیں ۔امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابن ابی الجذعاء رضی اللہ عنہ کانام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت