ہر قریب رہنے والے'آسانی کرنے والے اور باوقار سنجیدہ کی فضیلت
2507 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ إِذَا كَانَ مُخَالِطًا النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ خَيْرٌ مِنْ الْمُسْلِمِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كَانَ شُعْبَةُ يَرَى أَنَّهُ ابْنُ عُمَرَ
یحییٰ بن وثاب نے ایک بزرگ صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' جومسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتاہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتاہے ' ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ابن ابی عدی نے کہا: شعبہ کاخیال ہے کہ شیخ صحابی (بزرگ صحابی) سے مراد ابن عمر ہیں۔