فهرس الكتاب

الصفحة 2517 من 3890

کتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

ہر قریب رہنے والے'آسانی کرنے والے اور باوقار سنجیدہ کی فضیلت

2517 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ السَّدُوسِيُّ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ قَالَ اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يَحْيَى وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُنْكَرٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پرتوکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا:' اسے باندھ دو ،پھر توکل کرو'۔

عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے کہاکہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

۲- اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت