فهرس الكتاب

الصفحة 2683 من 3890

کتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں

عبادت پرعلم وفقہ کی فضیلت کابیان​

2683 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَخَافُ أَنْ يُنْسِيَنِي أَوَّلَهُ آخِرُهُ فَحَدِّثْنِي بِكَلِمَةٍ تَكُونُ جِمَاعًا قَالَ اتَّقِ اللَّهَ فِيمَا تَعْلَمُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَهُوَ عِنْدِي مُرْسَلٌ وَلَمْ يُدْرِكْ عِنْدِي ابْنُ أَشْوَعَ يَزِيدَ بْنَ سَلَمَةَ وَابْنُ أَشْوَعَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ

یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتاہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ (کوئی ایسی بات) بتادیجئے جودونوں (اول وآخر) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا:' جو کچھ بھی تم جانتے ہوان کے متعلق اللہ کا خوف وتقویٰ ملحوظ رکھو ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سندمتصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ ۲-میرے نزدیک ابن اُشوع نے یزید بن سلمی (کے دور) کو نہیں پایا ہے، ۳- ابن اُشوع کانام سعید بن اشوع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت