فهرس الكتاب

الصفحة 2744 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

چھینکنے والے کا جواب کتنی باردیاجائے؟​

2744 حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ الْكُوفِيُّ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَبِيهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ

-عبیدبن رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'چھینکنے والے کی چھینک کاجواب تین بار دیا جائے گا، اور اگر تین بار سے زیادہ چھینکیں آئیں تو تمہیں اختیارہے جی چاہے تو جواب دو اور جی چاہے تو نہ دو'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث غریب ہے اوراس کی سند مجہول ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت