فهرس الكتاب

الصفحة 2747 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

اللہ تعالیٰ چھینک کو پسندکرتاہے اور جمائی کوناپسندکرتاہے​

2747 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُولَنَّ هَاهْ هَاهْ فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَحَادِيثُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَوَى بَعْضَهَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَبَعْضُهَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاخْتَلَطَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُهَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتاہے اور جمائی کو ناپسند، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ' الحمد للہ' کہے تو ہرمسلمان کے لیے جواسے سنے 'یرحمک اللہ' کہنا ضروری ہے۔ اب رہی جمائی کی بات تو جس کسی کو جمائی آئے ،اسے چاہیے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسے روکے اور ہاہ ہاہ نہ کہے، کیوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان اس سے ہنستاہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث صحیح ہے،۲- اوریہ ابن عجلان کی (اوپر مذکور) روایت سے زیادہ صحیح ہے ، ۳-ابن ابی ذئب: سعیدمقبری کی حدیث کو زیادہ یادرکھنے والے (احفظ ) اور محمد بن عجلان سے زیادہ قوی (اثبت) ہیں، ۴- میں نے ابوبکر عطاربصری سے سناہے وہ روایت کرتے ہیں: علی بن مدینی کے واسطہ سے یحییٰ بن سعید سے اوریحییٰ بن سعید کہتے ہیں: محمد بن عجلان کہتے ہیں: سعید مقبری کی احادیث کامعاملہ یہ ہے کہ سعید نے بعض حدیثیں (بلاواسطہ) ابوہریرہ سے روایت کی ہیں۔ اوربعض حدیثیں بواسطہ ایک شخص کے ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہیں۔ تو وہ سب میرے ذہن میں گڈمڈ ہوگئیں۔ مجھے یاد نہیں رہا کہ بلاواسطہ کون تھیں اور بواسطہ کون؟ تو میں نے سبھی رایتوں کو سعیدکے واسطہ سے ابوہریرہ سے روایت کردی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت