فهرس الكتاب

الصفحة 2850 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

شعر پڑھنے کابیان​

2850 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی اکرمﷺ کے ساتھ سوبار سے زیادہ بیٹھنے کاشرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے (سنتے وسناتے) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اورکبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت