فهرس الكتاب

الصفحة 2998 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ آل عمران کی تفیسر

2998 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ قَال سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ الْحَاجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الشَّعِثُ التَّفِلُ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعَجُّ وَالثَّجُّ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ مَا السَّبِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ الْمَكِّيِّ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! (واقعی) حاجی کون ہے؟۔ آپ نے فرمایا: '' وہ حاجی جس کا سر گرد وغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب وزینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو'' پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کون سا حج سب سے بہتر ہے؟ '' آپ نے فرمایا: '' وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے۔ اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا (خوب خوب) خون بہایا جائے۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! (من استطاع سبیلًا میں) سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: '' زاد راہ (توشہ) اور سواری ''۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت