فهرس الكتاب

الصفحة 3019 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ نساء کی تفسیر

3019 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ بَصْرِيٌّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا قَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: '' اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ''، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: '' جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا''، آپ یہ بات بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے ''۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت