3072 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَمْ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ الْآيَةَ الدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ الْمَغْرِبِ أَوْ مِنْ مَغْرِبِهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی، تو جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا اسے اس کا (بروقت) ایمان لانا فائدہ نہ پہنچا سکے گا (الانعام: ۱۵۸) ، (۱) دجال کا ظاہر ہونا (۲) چوپائے کا نکلنا (۳) سورج کا پچھم سے نکلنا''۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- ابوحازم سے حازم اشجعی کوفی مراد ہیں۔ ان کا نام سلمان ہے اور وہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔