فهرس الكتاب
3114 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةَ حَرَامٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَنَزَلَتْ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَكَ وَلِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے ایک (غیرمحرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پرآیت { وَأَقِمَ الصَّلاۃَ طَرَفَیَ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ } نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھاکیا یہ (کفارہ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا:' یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جویہ غلطی کربیٹھے'۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔