فهرس الكتاب
3126 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ بِشْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ قَالَ عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ بِشْرٍ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول { لَنَسْأَلَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ } ۱؎ کے متعلق فرمایا:' یہ پوچھنا ' لا إلٰہ إلا اللہ' کے متعلق ہوگا'۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے ،۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳-عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے ، اورلیث نے بشرکے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔