فهرس الكتاب
3134 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ: { وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} ۱؎ کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد (کھلی) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ۲؎ انہوں نے یہ بھی کہا ( وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ فِی الْقُرْآنِ ) میں شجرہ ملعونہ سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔