فهرس الكتاب

الصفحة 3140 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر​

3140 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبَي هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِيَهُودَ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالَ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا فَأُنْزِلَتْ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قریش نے یہود سے کہاکہ ہمیں کوئی ایسا سوال دوجسے ہم اس شخص (یعنی محمد ﷺ ) سے پوچھیں ، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا (روح کی حقیقت کیاہے؟) اس پر اللہ نے آیت {وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِیلا} ۱؎ ، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں تو راۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت {لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ} نازل ہوئی ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت