فهرس الكتاب

الصفحة 315 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟​

315 و قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فَلَقِيتُ عَبْدَاللهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي بِهِ قَالَ: كَانَ إِذَا دَخَلَ قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي أُسَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ. وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ أَشْهُرًا

اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تومیں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپﷺ داخل ہوتے تو یہ کہتے'رَبِّ افْتَحْ لِی بَابَ رَحْمَتِکَ' ( اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے) ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ( شواہدکی بناپر) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲-فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایاہے، وہ تو نبی اکرمﷺ کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں،۳- اس باب میں ابوحمید، ابو اسید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت