فهرس الكتاب
3211 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا أَرَى كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا لِلرِّجَالِ وَمَا أَرَى النِّسَاءَ يُذْكَرْنَ بِشَيْءٍ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ الْآيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
ام عمارہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرمﷺکے پاس آئیں اورعرض کیا: کیا بات ہے میں ہرچیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا (قرآن میں) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی { إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ } آخرآیت تک۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔