فهرس الكتاب

الصفحة 3230 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر​

3230 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمْ الْبَاقِينَ قَالَ حَامٌ وَسَامٌ وَيَافِثُ قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ يَافِتُ وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ وَيُقَالُ يَفِثُ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے اللہ تعالیٰ کے قول { وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہُ ہُمُ الْبَاقِینَ } ۱؎ کی تفسیر میں فرمایا:' (نوح کے تین بیٹے) حام ، سام اور یافث تھے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲-یافت 'ت' سے اور یافث 'ث' سے دونوں طرح سے کہاجاتاہے ' یفث' بھی کہاجاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت