فهرس الكتاب

الصفحة 3255 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ دخان سے بعض آیات کی تفسیر​

3255 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ بَابَانِ بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمْ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:' ہرمومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے،جب وہ مرجاتاہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَاء وَالأَرْضُ وَمَا کَانُوا مُنظَرِینَ} (الدخان: 29) ۱؎ کامطلب '۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت