فهرس الكتاب

الصفحة 326 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

کون سی مسجد سب سے افضل ہے؟​

326 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' تین مساجدکے سواکسی اورجگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے ، ۱- مسجدحرام کے لیے، ۲- میری اس مسجد (مسجدنبوی) کے لیے، ۳- مسجداقصیٰ کے لیے ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: یعنی ثواب کی نیت سے سفرنہ کیاجائے، مگرصرف انہی تین مساجدکی طرف ،اس سے کوئی بھی چوتھی مسجداورتمام مساجد ومقابر خارج ہوگئے ، حتی کہ قبرنبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفرجائز نہیں، ہاں مسجدنبوی کی نیت سے مدینہ جانے پرقبرنبوی کی مشروع زیارت جائزہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت