3265 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ قَالَ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبی اکرمﷺنے {وَأَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوَی} کے متعلق فرمایا: 'اس سے مراد ' لا إلہ إلا اللہ' ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے،۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔