فهرس الكتاب

الصفحة 3274 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

سورہ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر​

3274 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ أَبُو المُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الحَارِثِ بْنَ يَزِيدَ البَكْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ المَدِينَةَ فَدَخَلْتُ المَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ، وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ تَخْفُقُ، وَإِذَا بِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ قَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ العَاصِ وَجْهًا، فَذَكَرَ الحَدِيثَ بِطُولِهِ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِمَعْنَاهُ. وَيُقَالُ لَهُ: الحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ

حارث بن یزید البکری کہتے ہیں: میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑرہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو (فوجی دستہ کے ساتھ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی ۔

حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہاجاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت